Danishkadah Danishkadah Danishkadah
حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا، مومن، لوگوں کا مددگار ہوتا ہے، کم خرچ ہوتا ہے، اپنے معاش کے لئے اچھی تدبیریں کرتا ہےاور ایک بل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا ۔ مطالب السئول ص54، اصول کافی باب المومن و علاماتہ حدیث38، وسائل الشیعۃ حدیث20255

محرم الحرام کے بارے میں اہم سوال و جواب

عزاداری کے دوران غم وگریہ کا غلبہ

سوا ل ۶۹ : مشہو ر تو یہ ہے کہ ہنسی ہر غم کا علا ج ہے تو پھر دینی اجتما عی پروگراموں میں گریہ و زاری کی حالت کیوں زیادہ تر برقرار ہوتی ہے ، ہم مسلمانوں کے دینی پر وگرام ہمیشہ نوحہ خوانی و مصائب کی وجہ سے غم و اندوہ سے پر ہو تے ہیں ، کیا اسلام میں خوشی و سرور کی کوئی محفلیں نہیں ہوتیں کہ ہر محفل ہی غم و حزن کا مُرقع بنی ہوتی ہے؟
جو اب : اس سوا ل سے پتہ چلتا ہے کہ اکثر مسلمانوں میں فکری گہر ائی کی کس حد تک کمی ہے، اس مسئلہ کی گہرائی وگیرائی کا تقاضہ یہ ہے کہ ایک حقیقت طلب معاشرے کو سا منے رکھتے ہو ئے اس مسئلہ سے ابہا م کے پر دے اٹھا ئے جا ئیں ،ان جیسے احسا سا ت و جذبات کی اسلامی صورت واضح کی جا ئے اور اس مقا لے کی گنجا ئش کے مطا بق یہاں کچھ مطالب ذکر کئے جائیں گے۔
اس سوا ل کے جواب کے لئے درج ذیل چار مراحل ذکر کئے جائیں گے۔
۱)اس فکری ابہام یاانحراف کی علّت و وجہ کی پہچا ن
۲)اسلامی معا رف میں غم و خو شی کا مقا م
۳)سا ئنسی و دینی حوالوں سے علم النفسیا ت میں خوشی وغم کا مقام
۴) خوشی وغم کی صحیح شکل و صورت
پہلا اس ابہام کی وجہ
یقینا آج کل کے مذہبی مرا سم دیکھ کر ہی آپ نے خوشی وغم کے بارے ایسا سو چا ہے یا اس کے بارے ابہا م کا آپ شکا ر ہو ئے حالا نکہ آپ کا یہ اظہا ر نظر اسلام کی طرف سے کی جا نے والی تعریفوں سے کوئی مطا بقت و منا سبت نہیں رکھتا ۔
ان پروگراموں کے بر قرا ر کر نے والوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو عید کے دن اور آئمہ کے جشن کی محفلوں میں بھی مصا ئب و گریہ کو ضرور ی سمجھتے ہیں ، وہ لو گ یہ سمجھتے ہیں کہ لوگوں کو رلانا ان کا سب سے بڑا مذہبی فریضہ ہے ، لیکن یہ کا ملاً ایک غلط سوچ ہے اور اس سوچ کا منشاء و منبع یہ تصور ہے کہ گریہ و غم ایک پسندید ہ حالت ہے اور ا س حالت میں انسا ن خدا وآئمہؑ کے زیادہ قریب ہو تا ہے، لہٰذا یہ لو گ جیسے بھی ہو سکے لوگوں کو رلا نے کی کو شش کر تے ہیں اور اسے اپنا بڑ افن سمجھتے ہیں یعنی محفل گر م ہی تب ہو تی ہے کہ لوگوں کی آنکھوں سے آنسو نکلیں ، یہ لو گ سمجھتے ہیں کہ ان کی شر عی ذمہ دا ری ہے کہ لوگوں کو رلائیں اور ان کی یہ سو چ معارف دین کے بارے ایک افراطی فکر سے پیداہو ئی ہے۔
ان افرا طیوں کے مقابل ایک گر وہ تفر یطیوں کا ہے کہ وہ بعض رو ایا ت اور ان علمی اصولوں کی بنا پر جن میں گر یہ و ما تم کو نقصا ن دہ قرا ر دیا گیا ہے اپنی پو ری ہمت و کوشش اس میں لگا دیتے ہیں کہ لوگوں کو جیسے ہو سکے خو ش و خر م رکھیں اگر چہ وہ خوشی و سرور بے وجہ ہی کیوں نہ ہو ۔
پہلی قسم والے لو گ اپنے زندگی سے خو شی و سرور پیدا کر نے والے تما م عوامل خارج کر دیتے ہیں یا انہیں اہمیت کم دیتے ہیں حتیٰ کہ خوش رنگ و پرکشش لبا س بھی نہیں پہنتے اور وہ اپنے اس غم و اند وہ میں خو ش ہیں ،ا ن کے اس رو یے کی وجہ سے بعض لو گ دین کو دین گریہ سمجھنے لگتے ہیں اور دوسرے بعض لوگوں کی وجہ سے لو گ دین کو دین خند ہ شمار کرتے ہیں ۔
اکثر مسلمان اس افرا ط وتفریط کا شکا ر ہو کر اعتدا ل کی راہ چھوڑ بیٹھے ہیں ،گو یاکو ئی تیسرا راستہ ہے ہی نہیں کہ وہ مجبو ر ہیں ان دوراستوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں ، حالا نکہ یہ دونوں نظر یے غلط ہیں ،حقیقی اسلام کا راستہ نہ یہ ہے اور نہ وہ ہے بلکہ حقیقت ان کے برعکس ہے۔
دوسرا اسلام میں خوشی و غم کا مقام
اسلام کی نظر میں ہنسی ہو یا غم ، گر یہ ہو یا سر ور کسی کو بھی مطلو بیت ذا تیہ و استحبا ب نفسی حاصل نہیں ہے ۔ان میں سے کسی کو حقیقی ارزش حاصل نہیں ہے، چہ جا ئیکہ ایک کو دوسرے پر تر جیح حاصل ہو، اسلام نے کسی کو گر یہ کی تر غیب صرف گر یہ کی خا طر نہیں دلائی جیسا کہ خوشی و سرور بھی صرف خوشی و سرور کے عنوا ن سے مطلو ب نہیں ہے ، بلکہ گر یہ و خو شی اگر ارزش و مطلوبیت و رجحا ن پیدا کر تے ہیں تو ان مقدمات و نتا ئج کی وجہ سے جو ان پر متر تب ہوتے ہیں ۔
یہ انسا ن کی نفسا نی صفا ت اور روحی جذبا ت وحالا ت ہو تے ہیں جو ہنسی یا گریہ کی صورت میں ظا ہر ہو تے ہیں ،ابتدا ئی طو ر پر ایسے جذ با ت ہرانسا ن میں موجو د ہو تے ہیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ حالا ت انسا ن کے اجتما عی اور الٰہی تعلقا ت اور بندگی خدا وند پرمنفی اثر نہ ڈالیں بلکہ ان پر مثبت تا ثیر ڈالیں ۔ وہ غم اور گر یہ جو انسا ن کے لئے نقصا ن دہ ہو یا اسے بندگا نِ خدا کی خد مت سے رو ک دے یا عبا دت سے مانع ہو جائے اور انسا ن کو اس کے ہدف تک نہ پہنچنے دے یہ گر یہ مذمو م و نا پسند ید ہ ہے ، اس طرح خوشی و سرور جب نقصا ن دہ ہو جا ئے یا عبا دت یا انسانی و دینی و ظا ئف کی انجا م دہی سے مانع ہو جا ئے تو یہ بھی سخت نا پسندیدہ ہے ، خو شی و گر یہ کے بارے دو عنصر کو سامنے رکھ کرہی کوئی حکم لگا یا جا سکتا ہے کہ حسن ہے یا قبیح ۔
۱) ان جذبا ت کے ظہو ر کا عا مل کیا ہے
۲)ان جذ با ت کی کیفیت کیا ہے
جا ہلا نہ ہنسی کہ جسے رو ا یا ت میں ’’ضحک من غیر عجب‘‘ کہا گیا ہے مو رد مذمت ہے، اس کے مقابل اگر ہنسی، بمعنی ہو تو اس کی مدح کی گئی ہے ، اما م حسن عسکر ی علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں :
’’ بغیر تعجب کے ہنسنا جہالت کی علا مت ہے‘‘(۳)
دوسر ی حدیث میں فر ما یا :
’’جو شخص بغیر تعجب کے ہنسے خدا و ند اس سے متنفر ہے‘‘ (۴)
پس معلو م ہو گیا کہ نہ ہر طرح کی ہنسی نا پسند ید ہ ہے اور نہ ہی ہر ہنسی پسند ید ہ ہے، گریہ بھی اسی طرح ہے بلکہ گریہ اگر خوف خدا سے ہو تو اسلام میں اس کی بڑ ی اہمیت ہے۔
اما م محمد با قر علیہ السلام فر ما تے ہیں :
’’ اس قطرہ آنسو سے کوئی قطر ہ خدا وند کو زیا دہ پسند نہیں جو را ت کی تا ریکی میں خوف خدا سے نکلتا ہے‘‘(۵)
حضر ت علی علیہ السلام نے فر ما یا:’’ خو ف خدا سے رو نا رحمت الٰہی کی کنجی ہے ‘‘ (۶)
ایک اور روا یت میں آیا ہے کہ :
’’یہ گریہ دل کی نو را نیت کا موجب اور دوبا رہ گناہ کی طرف لوٹنے سے مانع ہے‘‘(۷)
(۳) بحارالانوار ،ج ۷۲ ، ص ۵۹ ، من الجھل الضحک من غیر عجب
(۴) حوالہ سابق، ج ۷۸ ،ص ۳۰۹ ان اللہ عز وجل یبض الضحا ک من غیر عجب
وہ ہنسی پسندید ہ ہے جو تعجب انگیز نکتہ ادراک پر مبنی ہو نے کی وجہ سے طبیعت کے مناسب ہے اور یہ گر یہ پسند ید ہ ہے چو نکہ انسا ن کی رو حانی ترقی اور اعلیٰ شناخت کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے کہ ان دونوں کا مقصد رضا ئے خدا کا حاصل کر نا ہے اور اس میں ہنسنے والے یا رونے والے کی سلامتی وضمانت بھی پا ئی جا تی ہے۔
اسلام کی نظر
۱) اسلام ایسے گر یہ کو بالکل پسند نہیں کر تا جو انسا ن میں افسر دگی و مایوسی کو زیا دہ کرے بلکہ اس کی مذمت کر تا ہے ، رسول ؐ خدا کے با رے رو ایا ت میں وا رد ہے کہ اگر اصحا ب میں سے کوئی شخص غمگین ہو تا تو حضو ر ؐ مز اح کے ذریعے اسے خوش مضم کر تے تھے۔(۸)
آئمہ طا ہر ین بھی اپنے اصحا ب کو خو ش رہنے کے طریقے ذکر فر ما تے اور ارشاد فرماتے :
’’خدا کی رضا پر خو ش و خر م رہو، تا کہ ہنسی خو شی زند گی گذا ر سکو ‘‘
۲) اسلام میں با ارزش گر یہ
یہ گر یہ خدا کے خو ف سے ہو تا ہے او ریہ خو د سا زی و تر بیت کے لئے ایک ذریعہ ہے نہ کہ مایوسی وبے ارزشی ہے اور جو گر یہ خدا کے بند وں کی محبت اور اعدائے خدا سے نفرت کی وجہ سے ہو اس کا بھی یہی حکم ہے۔
۳)ہنسنا قطعا بر ی با ت نہیں اور نہ ہی منفی شما ر ہو تا بلکہ اسلام اور شا رع مقد س اسلام کی نظر میں اس کا اہتما م کیا گیا ہے ، خوشی کا ایک جلوہ ہنسی ہے جیسے کہ خو شی کے اور جلوے بھی ہیں جیسے مزاح یا لطیفہ گو ئی وغیر ہ جو کہ کچھ حد و د کے ساتھ ایک پسندید ہ عمل ہے ، ہاں ہنسی کی بعض صورتیں مو رد مذمت وا قع ہو ئی ہیں ۔
(۵) اصو ل کافی ،ج۲ ،کتاب الد عا ء با ب البکا ء
(۶) میز ان الحکمۃ، ج ۱ ،ص ۴۵۳، حدیث ۱۸۳۶، البکا ء من خشیۃ اللہ مفتا ح الرحمۃ
(۷) حوالہ سابق، البکا ء من خشیۃ اللہ ینیر القلب و یعصم من معاو دۃ الذنب، ص ۳۵۴
(۸) سنن النبی، ص ۶۰
۴) اسلام ہنسی کو گر یہ کے مقابل یا گر یہ کو ہنسی کے مقابل قرار نہیں دیتا ہے اگر چہ گر یہ باارزش ہو یا ہنسی حکیمانہ و سنجید ہ ہو ، اسلام ان کا ایک دوسرے کے ساتھ مقایسہ نہیں کرتا کہ ایک کو دوسرے پر تر جیح دینے کی نوبت آئے بلکہ زند گی کی حقیقت و واقعیت ہو نے کے ناطے ان دونوں کو قبو ل کر تا ہے اور ہر ایک کے لئے خاص شر ائط قرا رد یتا ہے ۔
۵) عام حالات میں ا نسا ن کی طبیعت پر خو شی و تر و تا زگی غالب ہو تی ہے نہ کہ غم و اندو ہ یاگر یہ، لہٰذا جو جا ئز طریقے ہیں ان کا خیا ل رکھا جا نا چاہیے جیسے ہنسنا ، تبسم کر نا ، مز اح ، ورزش کرنا ، کا م کر نا ، سیر و سفر کر نا ، خوشبو لگا نا اور اچھے اچھے کپڑے پہننا ۔
اسلام میں مو من خو ش طبع و خو ش مشر ب ہے جب کہ منا فق گھٹا گھٹا سا رہتا ہے۔(۹)
رسول ؐ خدا جنہیں سب لو گوں کے لئے اسو ۂ حسنہ قرا ر دیا گیا فرما تے ہیں :
’’میں بھی آپ لوگوں کی طرح ہنسی مزاح کر تا ہوں ‘‘ (۱۰)
ایک اور جگہ فر ماتے ہیں :
’’ میں مز اح کر تا ہوں لیکن جو بات کہتا ہوں وہ حق و صد اقت پر مبنی ہو تی ہے‘‘(۱۱)
یعنی ایسی ہنسی کہ جس کے ذریعے اخلاقی ، اجتما عی عقا ئد ی یا فقہی علم حکمت کا تبا دلہ ہو، اس طرح کی ہنسی کی مثالیں رسول ؐ خدا کی زند گی سے کثر ت سے ملتی ہیں ـ۔
حضو ر اکرم ؐنے ایک دفعہ بوڑھوں کے ساتھ مزاح کر تے ہو ئے فر ما یا :
’’جنت میں بو ڑھے نہیں ہوں گے‘‘ (۱۲)
جب وہ پر یشا ن ہو ئے تو آپؐ نے فر ما یا :
’’آپ پہلے جوان ہوں گے پھرجنت میں داخل ہوں گے‘‘
اور جو ہنسی حکمت سے خالی ہو اور قہقہہ پر مشتمل ہو یا جس ہنسی میں گنا ہ کا عنصر شامل ہو جیسے غیبت ، تہمت ، تمسخر اڑا نا اور بدگو ئی وغیر ہ سخت مو ر د مذمت ہے اوراس سے منع کیا گیا
(۹) بحارالانوار ،ج ۷۷ ص ۱۵۵
(۱۰) کنز العما ل، ج۳ ص ۶۴۸
(۱۱) بحارالانوار، ج۱۶،ص ۲۹۵(۱۲) میزا ن الحکمۃ ،ج۱، ص۴۸۴
اور جو ہنسی حکمت سے خالی ہو اور قہقہہ پر مشتمل ہو یا جس ہنسی میں گنا ہ کا عنصر شامل ہو جیسے غیبت ، تہمت ، تمسخر اڑا نا اور بدگو ئی وغیر ہ سخت مو ر د مذمت ہے اوراس سے منع کیا گیا ہے۔ اسی طرح زیادہ ہنسی بھی نا پسندید ہ ہے، ائمہ علیہم السلام نے اسی طر ح کی جذ با تی آفا ت کے با رے تنبیہ فر ما ئی ہے اور نا پسند ید ہ ہنسی کی اقسا م ذکر فر ما ئی ہیں ،ا س ذیل میں قہقہہ ما رنا ، زیادہ ہنسنا ، ہنسی کی محفلیں منعقد کر نا ذکر کیا گیا ہے۔ اسی طرح جس ہنسی میں جھو ٹ شامل ہو اسے بھی برا شمار کیاگیاہے۔
اما م حسینؑ نے فرمایا : القہقہۃ من الشیطان(۱۳)
رسول ؐ خدا نے فر ما یا: کثرۃ الضحک یمحو الایما ن (۱۴)
رسول ؐ خدا نے فر مایا :
ویل للذی یحدث فیکذب لیضحک بہ القو م ویل لہ، ویل لہ (۱۵)
پہلی رو ایت میں ہے کہ قہقہہ شیطا ن سے ہے ، دوسری میں ہے ’’زیادہ ہنسی ایمان کو ختم کر دیتی ہے ‘‘اور تیسر ی رو ایت ہے ’’افسو س و ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جو بولتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے تا کہ دوسروں کوہنسا سکے اس پر سخت افسو س ہے ، اس پر سخت افسو س ہے‘‘
۷) جب معلو م ہو گیا کہ اہمیت کا حامل وہ گر یہ ہے جو خو ف خدا سے ہو یا خدا کے بندوں سے محبت یا دشمنوں سے نفر ت کی وجہ سے ہو تو اس کے علا وہ جو گریہ بھی ہو مذمو م ہو گا ،گر یہ صرف اس صور ت میں اہمیت کا حامل ہو گا کہ خو ف خدا کی بنا پر معنو ی تر قی اور معرفت کا باعث ہو، لہٰذا جو گر یہ نا لہ وزاری (۱۶) دادو فر یا د (۱۷) اعتر ا ض آمیز ہو سب کے سب مذمو م ہیں ۔
اس وضا حت سے معلو م ہوگیا کہ فکر ی ابہا م یا عملی انحرا ف اس وجہ سے پیدا ہو ا کہ
(۱۳) میزا ن الحکمۃ، ج۱ ص۴۸۱
(۱۴) حوالہ سابق، ۴۸۲
(۱۵) حوالہ سابق،۴۸۴
اس وضا حت سے معلو م ہوگیا کہ فکر ی ابہا م یا عملی انحرا ف اس وجہ سے پیدا ہو ا کہ بعض روایا ت کو دیکھا گیا ہے اور دوسری بعض روایات سے چشم پوشی کی گئی ہے ، جو لوگ ہنسی کو غلط یا گنا ہ سمجھتے ہیں وہ اپنی زندگی سے ہر طرح کی خو شی و شا دما نی کو ختم کر دیتے ہیں اور رو نے رلا نے کو ہی اپنی ذمہ دا ری سمجھتے ہیں انہوں نے صرف ان رو ایات کو دیکھا ہے جو ہنسی کی مذمت کرتی ہیں اور گریہ کی مدح کرتی ہیں اورجو لوگ موقع وبے موقع ہنسی کو اپناتے ہیں یا جاہلانہ اندا ز میں ہنسی کی کوشش کر تے ہیں وہ بھی صحیح را ستے سے ہٹ چکے ہیں
اب جب کہ معلو م ہو چکا ہے کہ انسا ن کی اجتما عی و انفرادی زند گی میں خو شی وخوشحالی ہی کو اصلیت و غلبہ حاصل ہے ،جس کی وجہ سے کا م و فعا لیت انجام پاتی ہے وہ خوشی و تروتازگی ہی ہے،پس خو ش ہو نے کے لئے سبب و وجہ کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کے امکانات فر اہم ہو نا کا فی ہیں ، جب کہ رو نے کے لئے ایسے منظر اور مو سم کا ہو نا ضرور ی ہے جس کی وجہ سے رو نا اورغم زد ہ ہونا وجو د پذیر ہو سکے ، اس وجہ سے اہل ایمان کے اوصاف میں کہاگیا ہے کہ وہ شوخ طبع اور خوش مشرب ہو تے ہیں ـ ۔ (۱۸)یا مو من کی خوشی اس کے چہر ے پر ہوتی ہے اور اس کا غم اس کے دل میں ہوتا ہے۔(۱۹)
دوسری طرف خو ف خدا سے گر یہ کر نے پر تا کید کی گئی ہے تو اس کا مو ر د خلوت اور تنہا ئی ہے نہ کہ جلو ت میں او ر سب کے سا منے ۔ لہٰذا رو ایت میں آیاہے سجد ہ کی حالت انسان کی خدا کے سب سے نزدیک حالت ہے (۲۰)اور خو ف خدا سے رات کی تاریکی میں آنسو کا قطر ہ خدا کو سب قطروں سے زیادہ پسند ہے۔(۲۱)
یہ بات قا بل توجہ ہے کہ اگر چہ فر د و اجتما ع کی روح پر خو شی و نشا ط کواصلی جذبہ شمار
(۱۶) قال رسو ل ؐ النیاحۃ عمل الجاھلیۃ ( میران الحکمۃ ج۵ ص ۴۴۹)
(۱۷) قال رسول ؐاللہ صوتا ن ملعو نا ن یبغضھما اللہ: اعوال عندا لمصیبۃ (میزا ن الحکمۃ ج۵ ص ۴۵۰)
(۱۸) بحارالانوار،ج ۷۷ ،ص ۱۵۵
(۱۹)حوالہ سابق ، ۶۹،۴۱۱
یہ بات قا بل توجہ ہے کہ اگر چہ فر د و اجتما ع کی روح پر خو شی و نشا ط کواصلی جذبہ شمار کیا گیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اسلام ہنسی و ہنسا نے کی محفلوں کے انعقا د کی اجا ز ت دیتا ہے بلکہ انہیں وہ اہل باطل وخسارت کی مجلسیں شمار کر تا ہے۔ (۲۲)
نیز اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ اسلام خو ف خدا سے یا اولیا ئے الٰہی کی وفا ت پر گر یہ کا حکم نہ دے ،کیونکہ ایسا گر یہ دل کوپا کیزگی و صفاء عطا کر تا ہے ، دوسروں کے ساتھ انس و الفت ایجاد کرتا ہے اور سکو ن باطن و سرو ردل کا با عث ہے۔
تیسرا :نفسیا ت کی روشنی میں خوشی
اس سوا ل کے جوا ب اور مطلوبہ نتیجہ حاصل کر نے کے لئے نفسیا ت کے نکتہ نظر سے چند اہم و ضروری نکا ت پر تو جہ ضروری ہے ۔
۱)خوشی کی تعریف
۲)خوشی کوپا نے کے طریقے
خوشی کی تعریف
خوشی علم النفسیا ت کے ان محدود موضوعات میں سے ایک ہے کہ جن کے بارے زیادہ گفتگو نہیں کی گئی لیکن پھر بھی خوشی کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں :
’’خوشی وہ مثبت احسا س ہے جو کا میابی کی حس کے پورا ہو نے پر حاصل ہوتا ہے‘‘
’’ خوشی یعنی تما م لذتیں جو بغیر کسی در د و رنج کے ہوں ‘‘
ارسطو کے نزدیک تما م طبقا ت کے لو گوں کے لئے خو شی کی ایک تعریف کرنا ممکن نہیں ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ خو شی کے درجے کئے جا ئیں ۔
خوشی کا نچلا درجہ یعنی لذت اٹھا نا ،
(۲۰) اصو ل کا فی، ج ۲ ،کتاب الدعا و با ب البکا ء
(۲۱)حوالہ سابق
(۲۲)میزان الحکمۃ، ج۵، ص ۴۸۴
۲) خوشی کا درمیانی درجہ جس کی تعریف اچھی کا ر کر د گی پر کی جا تی ہے،
۳)خوشی کا اعلیٰ درجہ یہ مفکر انہ زند گی کی صورت میں حاصل ہو تا ہے،
اکثر افر اد کے لئے زند گی میں لذات کے حصول کو خوشی شمار کیاجاتا ہے اورفرق نہیں کیا جاتاکہ یہ لذتیں پست و نا پسندیدہ حرکات سے حاصل ہوں یاجوانمردانہ قربانی کے ساتھ حاصل ہوں ، خوشی کا ایسا مفہو م انسا نی زند گی سے منا سبت نہیں رکھتا کیونکہ ہو سکتا ہے کہ بعض کو خوشی کے وسائل سے وقتی خوشی ہو جا ئے لیکن اس سے زند گی پر رضایت کی سطح کم ہوجا ئے گی ، یہی وجہ ہے کہ سقر اط حکیم کہتے ہیں : ’’ ایک سؤر کی طرح خو ش رہنے سے تو بہترہے کہ غمگین رہیں ، سؤرلذت تو اعلیٰ درجہ کی رکھتا ہے لیکن ذہنی طو ر پر اپنی فعالیات کی سطح نہیں جا نچ سکتا ،لہٰذا اپنی رضایت کو ظاہر بھی نہیں کرسکتا ۔
لہٰذا لذت کی ایک ایسی تعریف کی ضرورت ہے جو سب کے لئے قابل قبول ہو کہ جس میں خو شی و رضا یت با سطح لذت ( خو شی= رضایت+سطح لذت )موجو د ہو ، پس اگر خوشی کی اعلیٰ سطح مفکر ا نہ زند گی تک نہیں پہنچ سکتے تو کم از کم خالی لذت جس میں سطح رضایت نہ ہو پر تو راضی نہیں ہو نا چاہیے جو کہ ایک حیو انی خو شی ہے۔
۲)خوشی پا نے کے طریقے
دنیا وی زند گی رنج و غم سے مکمل خا لی تو نہیں ہو سکتی لیکن سا ری زند گی رنج وغم سے بھری بھی نہیں ہے، ایسا نہیں ہو نا چاہیے کہ رنج و غم کے سا ئے پو ری زند گی پر چھا جا ئیں اور انسا ن سے لذت و سرور بالکل ہی چھین لیں ، لہٰذا خو شی کے مو اقع کے حصو ل کا راستہ اپنا نا چاہیے کہ مختصر طور پر جو کہا گیا ہے وہ یہ ہے کہ لمبی و دائمی خوشی صرف ایک طریقے سے حاصل ہو تی ہے اور وہ یہ کہ زندگی اخلاقی و مذہبی ہو ، پس خوشی کا معنی یہ نہیں ہے کہ انسا ن لذت حاصل کر لے اور نہ خوشی کا مطلب یہ ہے کہ انسا ن تما م اخلاقی ، شرعی ، قانونی اور عرفی حدود و قیو د کو تو ڑ دے۔
علمی لحا ظ سے خوشی کے درج ذیل مختلف طریقے موجود ہیں ۔
الف)
غموں اور پریشانیوں کا مقابلہ کرنا
ب)
برداشت کی قوت میں اضافہ کر نا
ج)
ورزش کر نا
د)
سفر کرنا
ھ)
ط)
تبسم و ہنسی
مزاح کرنا
و)
ح)
خو ش رنگ لبا س پہننا
خوشی کی محافل میں شرکت کرنا
م)
بن ٹھن کر رہنا
ی)
تو قعات کم کرنا
چوتھا :صحیح اور پسند ید ہ گریہ وغم کی شکل و صورت
سا بقہ گفتگو کے نتیجہ کے طو ر پر کہہ سکتے ہیں کہ :
۱) خوشی کے اظہا ر کا ایک طریقہ ہنسنا اور تبسم ہے لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ وہ جو پسندید ہ ہے ہمیشہ خوش رہنا ہے نہ کہ ہمیشہ ہنستے رہنا ، دائمی خوشی اسلام کی پسندید ہ ہے اور زندگی کا ہد ف ہے اور یہ خوشی اخلا قی و دینی زندگی کے راستے سے حاصل شدہ علمی نتائج کی بنیا د پر حاصل ہو تی ہے۔
۲)درست ہے کہ ہنسی غم کا علاج ہے لیکن ہر غم کا علاج نہیں ہے ، ہاں اگر جسم نقصان سے حیوانی یا متو سط انسانی زند گی کے خطر ات سے غم پیدا ہو تو اس کا علاج ہنسی ہے، یہی وجہ ہے کہ سقرا ط ، افلاطون اور ارسطو نے انسا ن کی اعلیٰ خوشی صرف مفکر انہ زند گی کو شمار کیا ہے ، پس اگر ہم خوشی حاصل کر نا چاہتے ہیں تو ہمیں اعلیٰ سطح کی خو شی حاصل کر نے کی کو شش کرنا چاہیے اور نچلے درجے کی خو شی پر اکتفا ء نہیں کر نا چاہیے۔
اس اعلیٰ سطح کی خوشی کو روایات میں ’’زاہدا نہ خوشی‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے ، جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام زاہدوں کے وصف میں فر ما تے ہیں :
’’ زاہد اگر چہ دنیا میں ہنستے ہیں لیکن ان کے دل رو تے ہیں وہ اگر چہ خوش ہوں لیکن ان کا غم و اندو ہ شدید ہے‘‘(۲۳)
بادلی خونین لب خندان بیاورہمچو جام
نی گرت زخمی رسد چون چنگ آبی در خروش(۲۴)
پس ہمیشہ کم در جے کی خوشیوں کو کافی نہیں سمجھ لینا چاہیے بلکہ ز ا ہد انہ خوشی کی جستجو کرنی چاہیے، اعلیٰ درجے کی خوشی کے حصول پر گامزن ہونا چاہیے اور بچوں کی طرح ابتدائی لذات پر ہی اکتفا نہیں کر لینا چاہیے ۔
۳)صرف اجتماعی زند گی پر غالب ہیجا ن ہی خو شی نہیں ہے بلکہ فر دی و شخصی زندگی کے ہیجان بھی خوشی شما ر ہو تے ہیں ـ۔اگر آپ مذہبی و دینی پر و گرا موں سے اس کے علا وہ کا احساس پا تے ہیں تو پھر وہ ان افرا طی لوگوں کا اپنا طریقہ کا ر ہے جن کا ذکر ہم اوپر کر چکے ہیں اور و ہ دینی و مذہبی شیو ہ نہیں ہے،البتہ اسلام میں گریہ کا صرف ایک مو ر د ہے او ر وہ خوف خدا کی وجہ سے گر یہ ہے جو رات کی تاریکی میں سجدے کی حالت میں ہو تا ہے یہ نفس و روح کی عظمت و معر ا ج کا باعث بنتا ہے ۔
۶) مذہبی پروگراموں میں تین بنیادیں مد نظر ہوتی ہیں
الف : دینی احکا م و معار ف ،علمی حقا ئق و مطا لب اور فر دی و اجتما عی زند گی کی ضرور یا ت و ذمہ داریوں کا بیان کر نا ،
ب : انسانی الفت و دوستی کو ایجاد کر نا ،
ج : خدا وند کی عبادت و بندگی ،
ان تین بنیا د وں سے ہٹ کر کچھ بھی ہو، چاہے گر یہ ہو یا خوشی یہ مذہبی پر و گر ا م شمار نہیں ہوگا بلکہ خاص مواقع میں دینی بنیا د وں پر اضا فہ کیا جا تا ہے۔ ان نکا ت کو سا منے رکھتے ہو ئے اب مجالس عز امیں مصائب ، نوحہ سرا ئی ، دعا اور زیارات کو دیکھتے ہیں ۔
(۲۳) میزان الحکمۃ، ج۵،ص۴۸۵
(۲۴) دیوان حافظ
۱)اکثر دینی پر وگر ا موں کی بنیا دگریہ و نوحہ سرائی پر قائم نہیں ہو تی، بلکہ یہ تو صر ف اہل بیت اطہارؑ کے ایام عزا ہی میں ہو تا ہے۔
دینی معارف کے مطابق پروگراموں میں مصا ئب خوا نی و نوحہ سر ائی صرف اہل بیتؑکے ایام غم میں ہونی چاہیے جیسا کہ خو د ائمہ نے فر ما یا ہے کہ:
’’ ہما رے شیعہ ہماری خو شی میں خو ش ہو تے ہیں اور ہما رے غم میں غمگین ہو تے ہیں ‘‘(۲۵)
اس کا مطلب یہ ہے کہ صر ف غم اہل بیت کے دنو ں میں غمگین ہو نا چاہیے اور ان کے مصائب پڑھنے چا ہئیں ، جیسا کہ ہماری خوشی بھی اہل بیت علیہم السلام کی خوشی کے مطا بق ہونی چاہیے، پس اگر ایام عزا کے علا وہ مصائب و عزا دا ری بر پا کریں یا ایام خو شی کے علاوہ جشن بر پا کریں تو یہ افرا ط و تفر یط ہو گی ۔
۲)ان پر و گر اموں کی ماہیت اگر چہ گر یہ ہے لیکن یہ غم و ما تم افزا نہیں ہے یہ صحیح ہے کہ ہم ان پر و گر اموں میں گر یہ کر تے ہیں ، مصائب پڑ ھتے ہیں ،نو حے پڑ ھتے ہیں ،لیکن اس کا نتیجہ روح کی بالید گی و تا زگی کی صورت میں نکلتا ہے اور راہ اہل بیتؑ پر چلنے کے حوالے سے ایک تازہ و لولہ حاصل ہو تا ہے ۔ جیسا کہ ہر ہنسی بھی خو شی نہیں ہوتی، اسی طرح اہل بیتؑ پر گریہ بھی افسر دگی و بیماری نہیں ہے، لہٰذا ہم اگر رو تے ہیں تو یہ وہی ارزشی گر یہ ہے جو خوف خدا سے ہوتا ہے ،اسی وجہ سے ا س گریہ کو غم انگیز نہیں کہا جا تا ۔
۳) مصائب و مجالس عزا کی بر قرا ری کا مقصد اہل بیتؑ سے وابستگی و تعلق کے احسا س کو اجاگر کر نا ہو تا ہے اور شیعہ اپنی مجا لس عز ا میں یہی کا م کر تے ہیں اور اس سے ان کے دلوں کو سکون ملتا ہے نہ ان کے گر یہ کا مقصد غم و واندوہ کو پیدا کر نا ہوتا ہے، اہل بیتؑ کی مجالس عزا برپا کر کے شیعہ اہل بیت علیہم السلام کا قرض چکا نے کی کوشش کر تے ہیں اور قرض
(۲۵)بحارالانوار ، ج۵۱، ص ۱۵۱
۳) مصائب و مجالس عزا کی بر قرا ری کا مقصد اہل بیتؑ سے وابستگی و تعلق کے احسا س کو اجاگر کر نا ہو تا ہے اور شیعہ اپنی مجا لس عز ا میں یہی کا م کر تے ہیں اور اس سے ان کے دلوں کو سکون ملتا ہے نہ ان کے گر یہ کا مقصد غم و واندوہ کو پیدا کر نا ہوتا ہے، اہل بیتؑ کی مجالس عزا برپا کر کے شیعہ اہل بیت علیہم السلام کا قرض چکا نے کی کوشش کر تے ہیں اور قرض کی ادائیگی سے تو اطمینان قلب حاصل ہوتا ہے نہ کہ غم و اندوہ میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ کہ قرض کی ادائیگی صرف ان کے مصائب پر گریہ کرکے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اہل بیت علیہم السلام کی خوشی میں جشن کی محفلیں بر پا کر کے بھی کی جا تی ہے اور اس سے بھی روح کو سکو ن و اطمینان حاصل ہوتاہے۔
۴) اپنے پرو گر اموں کے آخر میں مختصر سا ذکر مصیبت اہل بیتؑ یا نو حہ خو انی خود دینی و اخلاقی زند گی کا احسا س ہے اور ادائے دین ہے اور ایک دینی و اخلاقی زندگی تو خو د خو شی ہے، اسی طرح اہل بیت علیہم السلام کی خوشی کے جشن کی محفلیں منعقد کر نا بھی دینی پرو گرام شما ر ہو تا ہے اور خوشی و سرور کا باعث ہے ۔
۵)دعا و زیارت کے دورا ن مصائب پڑ ھنا اور اس میں سے ایک حصہ دعا یا زیا رت کا بلاوجہ تکر ا ر کر نا جس سے زیا رت یا دعا اس طرح پڑ ھے جا نے سے خا رج ہو جا ئے جیسے معصومؑپڑھتے تھے تویہ ایک قسم کا افرا ط ( زیادہ روی) ہے ، اس رو ش پر اگر آپ نے اعتراض کیا ہے تو یہ درست ہے ، اس کی وجہ بھی ہم بیان کر چکے کہ یہ ایسا کر نے والوں کی کم علمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
پس دینی مراسم و پر وگر ام ذیل کی چند چیز وں پر مشتمل ہو تے ہیں ۔
۱)خدا وند کی عبا دت و بز رگی اس طرح جیسے اہل بیت کر تے تھے ،
۲)دینی امو ر و معا رف ، علمی مسا ئل اور زند گی کی ضرو ریا ت و و ظا ئف کا بیان ،
۳) لو گوں کے درمیان محبت والفت پیدا کر نا ،
۴)اہل بیتؑکا قرض چکا نا اور ان کے راستے پر چلنے کے لئے تا ز ہ ولو لہ حاصل کر نا، اس جواب کے حوالے جا ت
۱)محمدی ری شہری۔ محمد ۔میزا ن الحکمۃ مکتب الا علام اسلامی ۱۳۶۲
۲)مجلسی ۔ محمد با قر ، بحا ر الا نو ار مو سسہ الو فا ء بیر و ت ۱۴۰۳
۳) کلینی ، محمد ، اصول کا فی
۴) طریقہ دا ر ، ابو الفضل ، شرع و شا دی حضو ر ۱۳۸۰ص ۴۳۔۱۳
۵) پلاا چیک ، رابر ٹ ، ہیجا نھا ، ترجمہ محمو د رمضا ن زا دہ ، آستا ن قدس رضوی ۱۳۷۱ص ۱۵۶
۶)عزیزی ، عبا س ، فضائل و سیر ت اما م حسینؑ صلوۃ ۱۳۸۱ ص ۳۶۴
۷) ایبزیک مائل ، روان شنا سی شا دی ، ترجمہ مھر داد فیروز بخت و خشا یار بیگی ، بدر ۱۳۷۵ص ۸۲
۸) لطفی ، محمد حسن، دو ر ہ آثا ر افلا طو ن ج ۳
۹) کن و یز ، بہ دنبا ل شا د کامی ، ترجمہ ف شجر ی، انجمن قلم ایران ۱۳۷۹ ص ۶۷
۱۰) مطہر ی ، مر تضیٰ ، حما سہ حسینی صدرا ،۱۳۶۷، ص ۹۵
۱۱)الضو اء واللدن فی القرآن ا لکریم ، نذیر ، حمدا ن دا ر ابن کثیر، بیر و ت ۲۰۰۲، ص۳۸
۱۲) اکبر زا د ہ ، علی ، رنگ و تر بیت محمد ی ، ۱۳۷۴ پی جا ، ص ۲۴